Sunday, 8 June 2014

آئیڈئیل!

کچھ لوگوں سے بات کرنے میں لطف آتا ہے اور کچھ لوگوں کی بات کرنے سے لطف آتا ہے لیکن ایسی شخصیت کہ جس سے گفتگو کرنا بھی مزە دے اور جسکی گفتگو کرنا بھی آپکو لطف دے.اصل میں وہی شخصیت آپکے لیے آئیڈیل ہوتی ہے.وہی آپکے لیے مثالی ہے اور وہی آپکے لیے کامل!؂ 
 از:۔
 منیب اختر رضآ

Saturday, 7 June 2014

ںعت رسول مقبول ﷺ

جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا 
شاید حضورص ہم سے خفا ہیں منا کے لا
کچھ ہم بھی اپنا چہرە باطن سنوار لیں 
 ابوبکرؓ سے کچھ آئینے عشق و وفا کے لا
 دنیا بہت ہی تنگ مسلماں پہ ہوگئی 
فاروقؓ کے زمانے کا نقشہ اٹھا کے لا 
محروم کردیا ہمیں جس سے نگاە نے 
عثمانؓ سے وە زاویے شرم و حیا کے لا 
مغرب میں مارا مارا نہ پھر اے تلاش علم 
دروازە علیؓ سے یہ خیرات جا کے لا 
باطل سے دب رہی ہے امت رسول کی 
منظر ذرا حسینؓ سے پھر کربلا کے لا
 کلام:۔ مظفر وارثی

Sunday, 1 June 2014

موسم کا ساتھ

اکثر انسانوں سے زیادە موسم ہمارا خوب ساتھ دیتا ہے.یہ ہمیں اکیلا ہونے نہیں دیتا.جب دل کا موسم شاد ہو تو یہ برستا ہے اور جم کربرستا ہے ہماری خوشی میں ہمارے ساتھ خوش ہوتا ہے.جیسے ہم خوشی میں اپنا سب کچھ دوسروں پر نچھاور کرنے کو تیار ہوتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ جیسے ہم خوش ہیں ویسے ہی ہم دوسروں پر خوشیاں نچھاور کریں لیکن شاید ہماری خوشی میں ہمارے اردگرد موجود انسانوں کی بجائے موسم خوش ہوتا ہے اتنا برستا ہے کہ ہر چیز کو شاداب کر دیتا ہے.ہماری خوشی میں اس حد تک خوش ہوتا ہے کہ بادل اپنی آخری بوند تک برسانے کو تیار رہتے ہیں کہ کہیں ہماری خوشی کے استقبال میں کوئی کمی نہ رە جائے.کہیں اس خوشی کے اظہار میں کوئی دیر نہ ہوجائے.کہیں کوئی محروم نہ رە جائے.بادلوں کے پاس بوندوں کے علاوە ہوتا ہی کیا ہے؟انکا کل اثاثہ بوندیں ہی تو ہیں لیکن بادل اپنی آخری بوند تک برسا کر اپنے وجود کو ختم کر لیتے ہیں لیکن اپنے اظہار میں کوئی کنجوسی نہیں کرتے.ان بادلوں کا یہ خلوص آپکو ایسا احساس دے جاتا ہے کہ جسے آپ کبھی فراموش نہیں کر پاتے.کسی انسان سے کیا گلہ کہ وە ہماری خوشی پر نہ تو اظہار کرتا ہے نہ اس میں شریک ہونے کی کوشش کرتا ہےبلکہ اکثر ہمارے خوش ہونے پر افسردە ہو جاتا ہے. 
غم میں بھی معاملہ کچھ زیادە مختلف نہیں ہوتا.یہ موسم یہ بارش یہ بادل یہ بوندیں تب بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں.حالت غم میں جب ہماری آنکھیں برستی ہیں تو موسم کا حال بھی کچھ زیادە مختلف نہیں ہوتا.یہاں آنکھوں سے آنسو برستے ہیں وہاں بادل آسمان سے ننھی بوندیں بھیجتے ہیں ہمیں تسلی دینے کو ہمیں حوصلہ دینے کو اس غم کے اظہار میں شرکت کے لیے.یہ ننھی بوندیں ہم سے کہتی ہیں تم اکیلے نہیں ہم بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں.پھر موسم کو بھی ہماری حالت کی آگاہی ہو جاتی ہے.پھر وە ہماری حالت دیکھ کر ردعمل کا اظہار کرتا ہے.جب کوئی ایک آدھ آنسو ہمارے رخسار پر بہہ نکلتا ہے تو بوندا بندی شروع ہو جاتی ہے.جب آنسو جوڑے بنا کر نکلتے ہیں یا انکی تعداد میں اضافہ ہوتا ہےتو بوندوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے اور انکے برسنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے.اب جب شدت میں اضافے کے باعث زاروقطار والا مرحلہ آن پہنچتا ہے جب آنسوئوں کے بہنے کی رفتار اور مقدارکا اندازە نہی رہتا تو یہ بادل بھی آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور اپنی پوری استطاعت اور طاقت سے برستے ہیں اور اک پل کے لیے بھی ہمیں تنہائی کا احساس ہونے نہیں دیتے.قصہ صرف یہیں تمام نہیں ہوتا وقتا فوقتا بادلوں کی یہ گرج ہماری سسکیوں اور آہوں کو اپنے دامن میں چھپا کر ہمیں دلاسہ دیتی ہے.غم کی یہ ساری کیفیت موسم پر بھی طاری رہتی ہےایک پر خلوص اور احساس مند دوست کی طرح.یہ ننھی بوندیں شاید بڑے بڑے انسانوں سے بھی بڑی ہوجاتی ہیں کیونکہ خوشیاں اور غم بانٹنا بڑے اوراعلی ظرفی کی نشانی ہےاور اکثر یہ چھوٹی بوندیں بڑائی اور اعلی ظرفی دونوں تک پہنچ جاتی ہیں جہاں شاید انسان نہیں پہنچ پاتے. 
ہم انسان تویہ سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم حوش ہیں سارا جہان خوش ہے.وە خوشی خوشی نہیں جو آپکو تنہائی میں ملےاور آپکو تنہا کردے یہ تو صرف خودغرضی ہے.جوخوشی آپکو تنہا کر دے تو وە غم کے سوا کچھ نہیں کیونکہ جب غم آتا ہے تو وە تنہا کر کے ہی چھوڑتا ہے. 
از :۔                                                                                                                     
منیب اختر رضآ                                                                                                                         

عروج و زوال

شاید کہ یہ عروج تھا 
کہ اب سفر زوال ہے
 :)
منیب اختر رضآ                          

Monday, 26 May 2014

گنبد خضریٰ
























آنسو

بارش کے لاکھوں قطرے مل کر بھی اس ایک قطرے کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو ایک انسانی آنکھ سے ٹپکتا ہے.ویسے تو بارش کے قطرے کافی اونچائی سے زمین کا سفر کرتے ہیں لیکن یہ اس بلندی پر کبھی پہنچ نہیں پاتے جہاں سے ایک آنسو آنکھ کی جانب سفر کرتے ہیں.بارش کا قطرە صرف پانی ہوتا ہے اور پانی میں مل کر بھی میں سوائے ارتعاش کے کچھ پیدا نہیں کرتا.آنسو میں پانی کہاں ہوتا ہے؟اس میں تو جذبات و احساسات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہوتا ہے.یہ ایک ننھی سی بوند ہزار ہا کہانیوں کو اپنے اندر سموئے ہوتی ہے.اس ایک قطرے کی گہرائی سمندر سے بھی زیادە ہوتی ہے جس میں ہزاروں انسان ڈوب سکتے ہیں.اس میں ایک عجیب طاقت ہوتی ہے اگر یہ قطرە سمندر میں گر جائے تو سمندر کو رونے پر مجبور کر دے. انسان کا ایک آنسوبھی انمول ہوتا ہے جس کی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا.لیکن ہم نے اس کو اتنا بے قیمت اور ارزاں کر دیا ہے کہ بےقدر اور خود غرض لوگوں کے لیے بہاتے پھرتے ہیں.ان آنسوئوں کی اصل قیمت ایک ہی ہستی دے سکتی ہے جو اس کی قدر جانتی ہے.وە ہستی اس ایک قطرے کے بدلے پوری دنیا بھی عطا کرتا ہےاور سکون بھی دیتا ہے.ہمارے آنسو صرف الله پاک کی ذات کے لیے مخصوص کردیں اور اس ایک قطرے کے بدلے اس عظیم بادشاە سے دنیا و آخرت حاصل کر لیں.اس سے پہلے کہ کوئی اور ہم پر اپنے آنسو بہائے اور ہم اسکے آنسو بے قیمت کر جائیں۔
                  . از:۔
منیب اختر رضآ

وقت

اس تیز رفتار اور مصروف دور میں اپنوں کو یاد تک کرنے کا وقت کس کے پاس ہے؟انسان تو خیر دور کی بات ہے ہم انسانوں سے جڑی یادوں تک کو یاد نہیں رکھ پاتے یا انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں.میں تو کئی بار ان یادوں سے بھی معذرت خواە رہتا ہوں کے انہیں بھی وقت نہ دے پایا. جس طرح وقت گزر رہا ہے اسی طرح بہت سے انسان بھی ہماری زندگی سے گزرتے چلے جا رہے ہیں.ہم یہ تک یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ جس سے ہم آج مل رہے ہیں کل بھی اس سے ملاقات رہے گی یا نہیں. اپنی زندگی میں ہم ان گنت لوگوں سے ملتے ہیں.کچھ سے چند لمحوں کی ملاقات رہتی ہے.کسی سے تعلق کا سفر ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوتا ہے.کچھ تو ایسے ہیں کہ جن سے روزانہ کی بنیاد پر سالوں تک میل ملاپ رہتا ہے.لیکن ہم کسی کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اس شخص سے اگلے لمحے ملاقات رہے گی یا نہیں۔
ملاقاتیوں کی اس طویل فہرست میں گنتی کے چند لوگ ہی ہیں کہ جن سے دوبارە ملنے کی خواہش ہمیشہ جاگزیں رہتی ہے.ایسے لوگ ہمارے دل کے انتہائی قریب ہوتے ہیں.ان کا عزت و مقام ہماری نظر میں بہت اعلی ہوتا ہے.وە ہمارے لیے بہت اہمیت اختیار کر جاتے ہیں.ان لوگوں سے ہماری ہر ملاقات ہمارے لیے خوشی کا باعث ہوتی ہے.انکی موجودگی کا احساس ہی ہمیں سرشار کر دیتا ہے.ان کا ادا کیا ہوا ہر حرف ہر فقرە ہماری سماعتوں کو تسکین بخشتا ہے.انکی ہم پر ڈالی ہر نظر ہمارے لیے اعزاز سے کم نہیں ہوتی.انکی مسکراہٹ اور خوشی کا اظہار ہمارے قلب کے لیے باعث اطمینان ہوتا ہے.انکی ہر بات روح میں اتر جانے کی طاقت رکھتی ہے.ان کا ہر ایک طرز عمل ہمارے لیے قابل تقلید ہوتا ہے.انکی سوچ و فکر ہم پر اثر انداز رہتی ہے.انکی شخصیت میں ایک طلسماتی کشش ہوتی ہے.جنکی تمام حرکات و سکنات،قول و فعل،انداز و دیگر معاملات پر ہم توجہ دیتے ہیں.جن کا پاس ہونا ہمیں ہر فکر سے آزاد کر دیتا ہے.جن پر ہمیں اپنی ذات سے زیادە اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے.جن کو اپنے ہر راز میں شریک کرنے کا جی چاہتا ہے.جنکے ہر مشورے اور نصیحت میں خلوص اور خیر خواہی چھلکتی ہے.جنکی بے تکلفی میں ہمیشہ اپنائیت دکھائی دیتی ہے. یعنی ایسے لوگ جن سے ہم ہر حوالے سے متاثر رہتے ہیں اور ہمیشہ ان سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کی آرزو کرتے ہیں۔
 وقت جب بدلتا ہے تو وە ہماری خواہش یا منشا کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتا.جب وقت کروٹ لیتا ہے تو وە کسی کی نہیں سنتا بس وہی کر گزرتا ہے جو اسکی مرضی ہوتی ہے.وقت نہ ہمارے برسوں پر محیط تعلق کو دیکھتا نہ کسی اور حوالے سے متاثر ہوتا ہے وە بس ایک لمحے میں ہمیں ہمارے دستوں و عزیزوں سے جدا کر دیتا ہے ایک پل میں قربتوں کو دوریوں میں بدل ڈالتا ہے. پھر وہی اپنے جن سے برسوں کے یارانے ہوتے ہیں ہم سے دور ہو جاتے ہیں.جن سے دوری کا تصور بھی ممکن نہیں ہوتا انہی سے جدا ہونے کے لیے وقت ہمیں مجبور کر دیتا ہے.وقت کے اس فیصلے کے آگے ہیں سر تسلیم خم کرنا ہوتا ہے۔
پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جن سے روزانہ مستقل بنیادوں پر ملاقات رہتی تھی ان سے دنوں،ہفتوں یا مہینوں بلکہ بعض اوقات سالوں بعد ملاقات ہوتی ہے.کبھی ان لوگوں سے رابطے کا کوئی ذریعہ بھی باقی نہیں رہتا . پھر وە وقت بھی ہوتا ہے کہ رابطے کے ہزار طریقے ہزار ذرائع ہوتے ہیں لیکن پھر بھی رابطہ ہو نہیں پاتاکبھی ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا یا کبھی دوسرے فریق کے پاس بات کرنے کو وقت نہیں ہوتا.اکثر ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ دونوں کے پاس وقت ہوتا ہے لیکن بات کرنے کے لیے وقت موزوں نہیں ہوتا.کبھی وقت ہی ہمیں وقت نہیں دیتا تو اس وقت ہم وقت کے انتظار میں وقت صرف کرتے ہیں۔
وە دور بھی آتا ہے جب ہم وقت ہوتے ہوئے بھی اس وقت ایک دوسرے کو وقت نہیں دیتے اور ایک دوسرے کو نظر اندازکرتے ہیں.اس وقت ہم سارا الزام وقت پر دھر دیتے ہیں. مجرم ہماری اپنی ذات ہوتی ہے اور الزام وقت کے سر ہوتا ہے.کسی کو نظر انداز کرنے کے لیے وقت سے بہتر بہانہ موجود ہی نہیں. اگر آج ہم وقت کو وقت نہیں دیتے تو کل وقت بھی ہمیں وقت نہیں دے گا.آج ہم اگر کسی انسان کو وقت نہیں دیتے تو ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ کل اس انسان سے وقت لینا بھی مشکل ہو گا۔
 جیسے جیسے ہم کسی دوست یا شخص کو وقت کی وجہ سے نظر انداز کرتے ہیں ویسے ویسے ہی وە شخص ہم سے دور ہوتا چلا جاتا ہے.وہی دوست ہمارے اتنا قریب نہیں رہتا کہ جتنا پہلے ہوا کرتا تھا.ایک دن وە ہماری دسترس سے باہر ہو جاتا ہے اور ہم چاە کر بھی اسے دوبارە پاس نہیں بلا سکتے نہ اسے آواز دے سکتے ہیں اور نہ اس سے کوئی بات کہہ سکتے ہیں.بس پھر اس شخص کی ایک ہی چیز ہمارے پاس رە جاتی ہے ....اس وقت کی یاد.. اور ہماری پشیمانی ہی ہماری کمائی ہوتی ہے!؂
                      از:۔
 منیب اختر رضآ