Friday, 5 September 2014

کبھی شوخ سی کبھی گم سی لگتی ہیں
 یہ بارشیں  بھی مجھےتم سی لگتی ہیں
 یہ بوندیں کچھ چنچل ہوجاتی ہیں تیرے ذکر سے 
کرتی ہیں تجھے یاد تو بہت گم سم سی لگتی ہیں
تیری موجودگی میں لگتا تھا ہر لمحہ یادگار
 نہیں ہے اب تو٬تو یہ بارشیں ستم سی لگتی ہیں              
از:۔                 منیب اختر رضآ
ایک جانب کے لیےوزیراعظم ہائوس مقدس ہے اور دوسری جانب والوں کے لیے اپنے لیڈران عزیز....پتا نہیں ان میں کوئی ایک بھی ایسا ہے کہ نہیں جسے پاکستان کے تقدس کا خیال ہو؟کوئی ہے ان میں جس کو پاکستان کی عزت عزیز ہو؟کسی کو اپنا پی ایم ہائوس بچانا ہے اور کسی کو اپنے لیڈران کی حفاظت کرنی ہے....پاکستان کی حفاظت کو کوئی آگے نہیں آتا...کس سے شکوە کریں کس سے امید رکھیں؟کسکو بھلا کہیں کس کو برا جانیں؟التجا کس سے کریں کس سے درخواست کریں؟؟ان اناپرستوں سے امیدیں لگائیں؟نہیں ہرگز نہی..اب اسی سے مدد مانگنے کا وقت ہے جس نے پاکستان ہمیں دیا. اے الله تو نے ہی یہ ملک دیا یہ تیری ہی نعمت ہے تو ہی اسکی حفاظت فرما تجھ سے بہتر حفاظت کرنے والا کوئی نیں.اے الله تجھ سے ہی ہدایت کە درخواست کرتے ہیں اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں.تو ہی بہترین مددگار اور ہدایت دینے والا ہے.اے میرے مولا اپنے حبیب صلی الله علیہ وسلم کے صدقے ہم پر رحم پر رحم فرما.ہماری امید بھی تو ہے اور طاقت بھی تو اور ہم مٹی کے انسانوں کے پاس ہے ہی کیا اور ہمیں آتا ہی کیا بلکہ ہمارے پاس تجھ سے مدد مانگنے کے اور چارە ہی نہیں اور تو ہی زبردست طاقت رکھنے والا چارە ساز ہے.پروردگار ہماری قوم جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے منقسم ہے اور باہم دست و گریبان ہے ان کو ملک کے بہترین مفاد کے لیے متحد فرما.اے ہمارے مالک تو سب بہتر جانتا ہےاور ہمین یقین ہے کہ تو وہی کرے گاجو ہمارے لیے بہتر ہے.تجھ سے تیرے رحم و کرم کی بھیک مانگتے ہیں اور بہتری کے طلبگار ہیں.ہماری دعائوں،التجائوں اور فریادوں کو قبول فرما لے...آمین..
 ایک عام پاکستانی
 منیب اختر رضآ
لمحہ لمحہ جس کے لیے ہم نے کیاہےوقف 
اسی کے پاس ہمارے لیے نہیں بچا ہےوقت
 یہی احسان اس کا ہم پر کیا کم ہےساتھیو؟ 
معذرت تو کرتا ہے مسلسل مگر لہجہ ہے سخت 
         از:۔             منیب اختر رضآ

Thursday, 21 August 2014

میرا لفظ لفظ ہی جھوٹ تھا،تیرا حرف حرف بھی تو سچ ہوا
 تیرا حرف آیا جو میرے لفظ پر،وہی جھوٹ آخرکو سچ ہوا 
از:۔ منیب اختر رضآ                                                                            

Wednesday, 20 August 2014

تم نہ بدلے،میں نہ بدلا،نہ ہی بدلا ہےوقت 
لہجے بدلے،اندازبدلا اور احساس بدلا ہے فقط 
از:۔ منیب اختر رضآ                                                                        
لوگوں کی جھولیاں بھرتے رہے
 کیوں آج اپنے ہاتھ خالی ہیں؟
 کل جواب تھے ہم جن سوالوں کا
آج اس جواب کے ہم سوالی ہیں
ناز تھا کبھی ہمیں جنکے خلوص پر
 اب جاناکہ وە جذبے ہی جعلی ہیں
 سچ کہ وە ازل سے بانٹتے آئے محبتیں
گناە اپنا کہ عداوتیں ہم نے پالی ہیں

                            از:۔                       
 منیب اختر رضآ                                     

Sunday, 27 July 2014

Hasil.

احباب کچھ یوں چاہتوں کا ہمکو صلہ دیتے ہیں
 جرم خود کرتے ہیں مجرم ہم کو بنا دیتے ہیں
 انکے روبرو میری خوشیوں کا ذکر ہے بے معنی 
میرے دردو غم ہی ہیں بس جو انکو مزا دیتے ہیں
تیغ و تلوار نہیں پاس انکےنہ چڑھاتےہیں وە سولی 
 لہجہ و لفظ کے ہتھیاروں سے وە ہمکو سزا دیتے ہیں
 کون کہتا ہے وە کرتے ہیں فراموش عنایات ہماری
 گلے شکووں سے بس ان عنایات کی ہمکو جزا دیتے ہیں
 کانٹوں سےانہیں پیار پھولوں کو وە جلا دیتے ہیں 
وە احسان فراموش تو مخلصوں کو بھی بھلا دیتے ہیں
 وە ہیں بنجارے سبھی کےدل ہیں انکا مسکن 
افسوس اپنے دل میں کہاں وە ہمکو جگہ دیتے ہیں؟ 
اسی لیے ناز ہے آج تک ہم کو اپنی قسمت پر
 یاد تو کرتے ہونگےوە تبھی تو ہمکوبھلا دیتے ہیں 
ترش ہو جائے کسی سے لہجہ میری فطرت ہی نہیں
 مٹھاس رہتی ہے ان سے بھی جو ہمکو ایذاٴ دیتے ہیں 
ہر فرد کے ہوا کرتے ہیں معیار و ظرف جدا جدا 
خلوص مانگتے ہیں ہم ان سےوە ہمکو دغا دیتے ہیں
 ہم برے ہیں بہت اس بات کا احساس مجھے ہے مگر
 تب برا لگتا ہے جب وە اس بات کا احساس دلا دیتے ہیں
 انکو بھول جانا ہی بھلا یہ ہمیں یاد کہاں رہتا ہے؟
 شکریہ انکا وە یہی بھول ہمیں یادکرا دیتے ہیں
 دستور ہے انکا بٹھاتے ہیں جن کو وە سرآنکھوں پر 
نکل جاۂے مطلب توانہیں نظروں سے گرا دیتےہیں 
اور کیا دینگےہم انکو پاس ہمارےدینے کوبچا کیا ہے؟ 
خوشیاں چومتی رہیں قدم انکے ہم انکو دعا دیتے ہیں 
الفاظ کو جوڑنے سے فقط فقرے ہی بنا کرتے ہیں 
ہم تو اپنے احساس جوڑتے ہیں اور شعر بنا دیتے ہیں 
از:۔ منیب اختر رضآ