Wednesday, 20 August 2014

تم نہ بدلے،میں نہ بدلا،نہ ہی بدلا ہےوقت 
لہجے بدلے،اندازبدلا اور احساس بدلا ہے فقط 
از:۔ منیب اختر رضآ                                                                        
لوگوں کی جھولیاں بھرتے رہے
 کیوں آج اپنے ہاتھ خالی ہیں؟
 کل جواب تھے ہم جن سوالوں کا
آج اس جواب کے ہم سوالی ہیں
ناز تھا کبھی ہمیں جنکے خلوص پر
 اب جاناکہ وە جذبے ہی جعلی ہیں
 سچ کہ وە ازل سے بانٹتے آئے محبتیں
گناە اپنا کہ عداوتیں ہم نے پالی ہیں

                            از:۔                       
 منیب اختر رضآ                                     

Sunday, 27 July 2014

Hasil.

احباب کچھ یوں چاہتوں کا ہمکو صلہ دیتے ہیں
 جرم خود کرتے ہیں مجرم ہم کو بنا دیتے ہیں
 انکے روبرو میری خوشیوں کا ذکر ہے بے معنی 
میرے دردو غم ہی ہیں بس جو انکو مزا دیتے ہیں
تیغ و تلوار نہیں پاس انکےنہ چڑھاتےہیں وە سولی 
 لہجہ و لفظ کے ہتھیاروں سے وە ہمکو سزا دیتے ہیں
 کون کہتا ہے وە کرتے ہیں فراموش عنایات ہماری
 گلے شکووں سے بس ان عنایات کی ہمکو جزا دیتے ہیں
 کانٹوں سےانہیں پیار پھولوں کو وە جلا دیتے ہیں 
وە احسان فراموش تو مخلصوں کو بھی بھلا دیتے ہیں
 وە ہیں بنجارے سبھی کےدل ہیں انکا مسکن 
افسوس اپنے دل میں کہاں وە ہمکو جگہ دیتے ہیں؟ 
اسی لیے ناز ہے آج تک ہم کو اپنی قسمت پر
 یاد تو کرتے ہونگےوە تبھی تو ہمکوبھلا دیتے ہیں 
ترش ہو جائے کسی سے لہجہ میری فطرت ہی نہیں
 مٹھاس رہتی ہے ان سے بھی جو ہمکو ایذاٴ دیتے ہیں 
ہر فرد کے ہوا کرتے ہیں معیار و ظرف جدا جدا 
خلوص مانگتے ہیں ہم ان سےوە ہمکو دغا دیتے ہیں
 ہم برے ہیں بہت اس بات کا احساس مجھے ہے مگر
 تب برا لگتا ہے جب وە اس بات کا احساس دلا دیتے ہیں
 انکو بھول جانا ہی بھلا یہ ہمیں یاد کہاں رہتا ہے؟
 شکریہ انکا وە یہی بھول ہمیں یادکرا دیتے ہیں
 دستور ہے انکا بٹھاتے ہیں جن کو وە سرآنکھوں پر 
نکل جاۂے مطلب توانہیں نظروں سے گرا دیتےہیں 
اور کیا دینگےہم انکو پاس ہمارےدینے کوبچا کیا ہے؟ 
خوشیاں چومتی رہیں قدم انکے ہم انکو دعا دیتے ہیں 
الفاظ کو جوڑنے سے فقط فقرے ہی بنا کرتے ہیں 
ہم تو اپنے احساس جوڑتے ہیں اور شعر بنا دیتے ہیں 
از:۔ منیب اختر رضآ

Wednesday, 18 June 2014

کبھی وە زوال ہی میرا عروج تھا 
میرے عروج بھی اب تو زوال ہیں 
تیری وە قربتیں بھی عظیم تھیں
 تیری دوریاں بھی اب تو کمال ہیں 
کبھی غم بھی تو میرا رفیق تھا 
کہ یہ مسرتیں بھی اب توملال ہیں
 تھی وصال میں ہجر کی کیفیت
 تیرے ہجربھی اب تو وصال ہیں
 ہیں موجود مجھ میں جوخوبیاں 
تیری ذات ہی کےاب تو جمال ہیں 
از:۔ 
منیب اختر رضآ

خود غرضی

جب ہم کسی دوسرےکو خود غرض کہتے ہیں تو اصل میں دیکھاجائے تو ہم خود کو خودغرض کہہ رہے ہوتے ہیں کیونکہ جس کو ہم خودغرض کہتے ہیں اسی سے ہمیں کوئی نہ کوئی غرض ضرور ہوتا ہے اور چونکہ وە ہمارا غرض پورا نہیں کر پاتا اسی لیے وە ہمارےلیے خودغرض بن جاتالیکن اصل خود غرض تو ہم ہیں جو دوسرے سے غرض لگا کر اسےخودغرض کہتے پھرتے ہیں. 
از:۔ 
منیب اختر رضآ

دکھاوا

ہماری زندگی ان لوگوں کے لیے نہیں جو ہمارے سامنے مخلص ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں یا ہم سے مخلوص ہونے کا دعوی کرتے ہیں.مخلص تو وە ہیں جو ہماری غیر موجودگی میں بھی ہمارے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہوں یا ہماری خیر خواہی کے جذبات رکھتے ہوں. خلوص انسان کی باتوں سے نہیں اس کے اعمال سے ظاہر ہوتا ہے.مطلبی لوگ صرف باتیں کرتے ہیں عمل نہیں. 
از:۔ 
منیب اختر رضا

Sunday, 15 June 2014

گونگے

گونگے وە نہیں ہوتے کہ جو کچھ بول نہیں سکتے یا کسی کو کچھ سنا نہیں سکتے.گونگے تو وە ہیں جو بول بھی سکتے ہیں،جن کے پاس زبان بھی ہے،جو اپنی باتیں دوسروں کو سنا بھی سکتے ہیں،جن کےپاس الفاظ بھی ہوتے ہیں لیکن انکی کوئی سنتا نہیں... وە گونگا نہیں جو سنا نہ سکے بلکہ اصل میں گونگا وە ہے کہ جسکی کوئی سننا ہی نہ چاہے!؂ 
 از:۔ 
منیب اختر رضآ