Monday, 26 May 2014

منفی سوچ

منفی سوچ سے ہمیشہ منفی عمل پیدا ہوتا ہے اور جو عمل ہی منفی ہو تو اسکا انجام بھی منفی ہی ہوگا.حقیقی زندگی کوئی الجبرا نہیں کہ جس میں منفی کو منفی کے ساتھ ملانے سے وە مثبت ہو جائے.ہماری زندگی تو سادە سے حساب یعنی جمع تفریق کے گرد گھومتی ہے.مثبت سوچ رکھو تو خوشیاں،نیکیاں،کامیابیاں اور آسانیاں ہمارے گرد جمع رہیں گی.مثبت سوچ ہمارے گرد سکون بھی جمع رکھے گی اور سب سے بڑھ کر ہمارے گرد خیر خواە لوگوں اور مظبوط رشتوں کو جمع رکھے گی. منفی سوچ تو بس تفریق ہی کرتی ہےکہیں خوشیاں تفریق کرتی ہے کبھی آسانیاں تو کبھی یہ منفی سوچ ہماری زندگیوں سے سکون بھی تفریق کر دیتی ہے.منفی سوچ مظبوط رشتوں کو بھی تفریق کر دیتی ہے اور خیر خواہوں کے ہجوم کو بھی.سب سے بڑھ کر منفی سوچ الله کی رضا کو تفریق کرتی ہے اورجس کی زندگی سے الله کی رضا ہی تفریق ہوجائے تو اس بدنصیب کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے. منفی سوچ سے منافع نہیں نقصان ہوتا ہے.کسی اور کا نہیں اپنا نقصان.ہم زندگی کے ہر شعبے میں نفع چاہتے ہیں فائدے کے طلبگار رہتے ہیں لیکن ہم اس منافع اور فائدے کو حاصل کرنے کے لیے منفی سوچ کا سہارا لیتے ہیں اورجب فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے تو الله سے گلے شکوے کرتے ہیں.لوگوں کو پینے کو زہر دیتے ہیں اور بدلے میں ان سے شہد کی خواہش رکھتے ہیں.
                           از:۔
 منیب اختر رضآ

خطرناک لوگ

وە لوگ نہایت خطرناک ہوتے ہیں جو آپ سے تعلق توڑنے کے لیے آپ کو ہی استعمال کریں.ایسے لوگ آپ سے تعلق توڑنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن انکا اصل ہنر یہ ہے کہ وە کبھی بھی خود پر الزام آنے نہیں دیتے کیونکہ وە ہمیں تعلق توڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور خود ہمیشہ معصوم بن کر ہمیں قصوروار بنا ڈالتے ہیں. اگر ہم وقتی طور پر تنگ آ کر یا غصے میں ان سے کہہ دیں کہ "میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا" تو وە نہایت شاطرانہ انداز میں کہہ دیتے ہیں کہ "جیسے آپکی مرضی" اور انہی الفاظ کے ساتھ ہی خدا حافظ یا رب راکھآ کہہ جاتے ہیں ساتھ ہی جاتے جاتے خوش رہنے کی دعا بھی دے جاتے ہیں.وە ہمیں ہماری ہی نظروں میں مجرم بنا کر خود معصوم بن جاتے ہیں حالانکہ وہی دل میں ترک تعلق کی شدید خواہش رکھتے ہیں لیکن اس میں پہل نہیں کرتے بلکہ دوسرے کو مجبور کر دیتے ہیں.انکی دوستی اور خلوص محض دکھاوا ہوتا ہے. ان کےبرعکس کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر قیمت پر تعلق کو بچانا جانتے ہیں.وە کبھی آسانی سے کسی دوست کو جانے نہیں دیتے.وە اپنی انا کو قربان کرکے تعلق کو ایک نئی زندگی بخش دیتے ہیں..وە کسی کی غلطی یا قصور کو اپنے سر لے کر معافی مانگ لیتے ہیں اور ترک تعلق کی نوبت نہیں آنے دیتے.لیکن ۔صد افسوس کہ ایسے گنتی کے چند لوگ ہی ہوتے ہیں. ! تعلق جوڑ لینا کامیابی نہیں تعلق جوڑے رکھنا کامیابی ہے! ؂
 از :-
منیب اختر رضآ

Wednesday, 5 March 2014

تیس سیکنڈز!

کچھ کاموں کی انجام دہی کو صرف چند لمحے درکار ہوتے ہیں.اپنوں کو غیر ہونے میں،دوست کو اجنبی ہونے میں،تعلق کے لا تعلق ہونے میں،دعوے کو دکھاوا ہونے میں،انمول کو بے قیمت ہونے میں،خلوص کو بدنیت ہونے میں،مستقل کے عارضی ہونے میں،نرم سے سخت ہونے میں،پاس سےدور ہونے میں،قادر سے مجبور ہونے میں،طاقتور سے عاجز ہونے میں،ہم کلام سے بےکلام ہونے میں.صرف یہ فہرست یہیں تک محدود نہیں بلکہ اور بہت سے کاموں کے ہونے میں وقت کہاں لگتا ہے.انسان کے بدل جانے کے لیے صدیاں درکار نہیں ہوتیں صرف چند لمحے ہی کافی ہوتے ہے.ہم جب کسی اپنے دوست یا قریبی کو اجنبی یا دور کرنا چاہیں اسکو پرایا کرنا چاہیں تو بھی کچھ ہی پل چاہیے.خاموشی کبھی بھی تعلق یا رشتے کے خاتمے کی وجہ نہیں بنتی.خاموشی سےدوستی ختم نہیں ہو جایا کرتی.خاموشی تو بس وقتی طور پر رشتوں میں معمولی و عارضی سا خلا اور ججھک پیدا ہوتی ہے جسے بے تکلفی سے اور خلوص سے کچھ ہی لمحوں میں ختم کیا جا سکتا ہے.لیکن لفظوں اور رویوں کے بدلنے سے جو خلا پیدا ہوتا اس کو ختم کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے. صرف تیس سیکنڈ کے اندر اندر ہی ہم برسوں کی دوستی کا خاتمہ کر ڈالتے ہیں.صرف تیس سیکنڈ لگتے ہیں کسی پرانےتعلق سے لاتعلق ہوتے.سالوں کی وابستگی بیگانگی میں بدلتے ہیں صرف تیس سیکنڈ.وە تیس سیکنڈ کے جس کے دوران سلام دعا بھی ہوتی ہے حال احوال کےسوالات بھی ہوتے ہیں اور نیک تمنائوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے لیکن یہی تیس سیکنڈ ہمارے تعلقات،رشتوں،وابستگیوں اوردوستیوں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں. بظاہر تو ان تیس سیکنڈز کے درمیان رسمی گفتگو رہتی ہے کہ جن سے رشتےمظبوط ہوتےہیں لیکن ان تیس سیکنڈز میں ہونے والی گفتگو کے لیے استعمال ہونے والا لہجہ،اندازگفتگو،طرز و لےاور وە بےنیازی ہی کا فرق ہوتا ہے. دسمبر کی راتوں کی طرح سرد لہجے،تلوار کی طرح دل چیرتا ہوا انداز گفتگو،بے لچک طرز اور مدھم ہوتی لے،بےنیازی و بےرخی سے دوسری جانب دیکھتی آنکھیں،بےدلی سے سلام کے لیے سست رفتاری سے بڑھتا ہاتھ اور سلام لینےکے بعد برق رفتاری سے پیچھے ہٹتا ہاتھ،چہرے پر پھیلی بےزاری و بےتوجہی،غصےسے سکڑھتی ناک ایک خلوص سے عاری مصنوعی و بناوٹی سی مسکراہٹ،کانٹوں کی طرح چبھتے لفظ،رخ بدلنے کی جلدی اور واپس لوٹ جانے و نظروں سے اوجھل ہوجانے کی تیزی یہ سب کچھ ہوتا ہے صرف تیس سیکنڈ میں.کچھ یوں ہوتے ہیں اپنے پرائے صرف تیس سیکنڈ میں.مظبوط ترین رشتوں کا خاتمہ کچھ ایسے کرتے ہیں یہ تیس سیکنڈ.گلے شکوے کرنے کی بھی مہلت نہیں دیتے یہ تیس سیکنڈ.کسی کو پیچھے سے آواز دے کر واپس بلانے کا بھی موقع نہیں دیتے اور نہ ہی کسی سے معافی مانگنے کی اجازت دیتے ہیں یہ تیس سیکنڈ.سب کچھ تبدیل کر دیتے ہیں یہ تیس سیکنڈ. ہمیں خود سے دور کر دینے والے کس کمال خوبصورتی و ہنر سے یہ تمام کام سرانجام دیتے ہیں اور ہمیں قصوروار ٹھہرانے میں کامیاب رہتے ہیں اور وە آسانی سے ہر حوالے سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں.اے کاش کہ کبھی کسی کی زندگی میں یہ تیس سیکنڈ نہ آئیں کیونکہ وە شخص یہ کہتاہے کہ "میں نے کسی پر احسان نہیں کیا" اور صاف بچ نکلتا ہے اور ہمیں ایک عجیب کشمکش میں مبتلا کر دیتا ہے اور ہمیں ہماری ہی نظروں میں مجرم بنا کر اپنی راە لیتا ہے. از:۔ منیب اختر رضآ

جس طرف دیکھنا جدھر جانا
 مسکرا کر اداس کر جانا
 مشغلہ اپنی چاند راتوں کا
 دیکھنا خواب اور ڈر جانا

خواہش عظیم


پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
 آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے
 انسان کی زندگی میں اسکی لاتعداد خواہشیں،چاہتیں ہوتی ہیں جن کی تکمیل کے لیے وە تمام عمر جدوجہد کرتا رہتا ہے.کسی کو عہدے کی چاہت ہوتی ہے کسی کو دولت شہرت کی طلب ہوتی ہے کوئی طاقت چاہتا ہے کوئی خوشی کی تلاش میں رہتا ہے الغرض ہر فرد کی چاہت و خواہش کی نوعیت مختلف ہوتی ہے.لیکن کچھ خواہشیں مشترک ہوتی ہیں .کم از کم ایک خواہش جو تمام مسلمانوں میں رنگ ونسل ،فرقہ پرستی اور دوسرے اختلافات کے باوجود مشترک ہے .وە خواہش ہے الله اور اسکے حبیب صلی الله علیہ وسلم کے دربارمیں حاضری.اس خواہش کی تکمیل کی واحد شرط الله اور اسکے حبیب صلی الله علیہ وسلم کی طرف منظوری ہے.روپیہ پیسہ،استطاعت،لگن جذبہ اور عقیدت ثانوی حیثیت رکھتی ہیں. میں الله اور اسکے حبیب صلی الله علیہ وسلم کے اس لطف وکرم کا شکر ادا ہی نہیں کرسکتا کہ مجھ حقیر ادنی اور گناەگار پر میری اوقات حیثیت استطاعت طاقت اور عقیدت سے بڑھ کر عنایت کی.بس ایک ہی شعر بار بار میرے خیال میں گردش کر رہا ہے
 "میں اس کرم کے کہاں تھا قابل حضور کی بندە پروری ہے"
 انسان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش جب پوری ہونے جا رہی ہو تو اس پر عجیب سا وجد و کیف طاری ہو جاتا ہے عجب سا سرور و اطمینان کا احساس رہتا ہے.الله کےاس بےشمار رحمت پر اور اپنی قسمت پر یقین نہیں ہوتا.کہاں میرے محدود عمل کہاں انکے لامحدود انعام؟ آپ سب سے التماس ہے کہ آپ میرے لیے دعا کریں میں بھی آپ سب کے لیے اس سفر حجاز کے دوران دعاگو رہوں گا۔
از:۔
 منیب اختر رضآ

Thursday, 30 January 2014

منشا و امید


ہم تو موجود تھے راتوں میں اجالوں کی طرح
تم نے ڈھونڈا ہی نہیں ڈھونڈنے والوں کی طرح 
 کئی بار چیزیں ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتیں .ہم جسکو اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاە رہے ہوں وە ہمیں محسوس نہ کرنا چاہتاہو.جسکی نظر کرم کے ہم منتظر ہوں وە ہی نظر ہمیں نظرانداز کرے.جسکی توجہ حاصل کرنے کی خواہش ہو وہی اپنی توجہ کسی دوسری جانب مبذول کر لے.چراغ کی مانند ہم جگمگا رہے ہوں لیکن ہماری روشنی اس تک پہنچنے سے قاصر ہو یا یہ روشنی اس کے لئے کوئی معنے رکھتی نہ ہو.ہمارا وجود اسکے لئے نہ ہونے کے برابر ہو.ہماری شخصیت کا کوئی بھی پہلو اس کو متاثر نہ کر پائے جو ہماری ذات سے ہی بے نیاز ہو .جو ہماری آواز کو سن کر بھی ان سنا کر دے .جو ہماری بات کو ہی خاطر میں نہ لائے.جب کسی کو ہماری طلب ہی نہیں،اسکو ہماری حاجت ہی نہیں نہ ہماری توجہ کی ضرورت ہے اور نہ ہمیں حاصل کر لینے کی خواہش کہ وە کسی قسم کی جدو جہد کرے، تو ان تمام باتوں میں اس شخص کا قصور نہیں اصل مجرم تو ہم ہیں جو ایک محدود اور مجبور انسان سے لا محدود امیدیں لگائے بیٹھے رہتے ہیں .کوئی انسان چاہے ہماری نظر میں جتنا بھی عظیم کیوں نہ ہو وە خدا تو نہیں کہ وە ہماری ساری خواہشات کی تکمیل کی قدرت رکھتا ہو.جس طرح وە شخص معاشی طور پر غریب ہے کہ جس کے اخراجات اسکی آمدنی سے زیادە ہوں ویسے ہی ہم رشتوں کے معاملے میں تب غریب ہوتے ہیں کہ جب ہم کسی کی استطاعت سے زیادە اس سے امیدیں لگا بیٹھتے ہیں.لامحدود امیدیں صرف لا محدود ذات تک محدود رکھی جائیں تو ہی ہماری بھلائی ہے.ہمیشہ امیدکا محورالله کی ذات کو بنائیں سکون نصیب ہو جائے گا.                                                                                                                                      از:۔             
منیب اختر رضآ

اکثر لوگ ہمیں خصوصاً مجھے نصیحت کرتے ہیں "اتنا سوچا نہ کرو"لیکن وە خود اس سوچ میں گم ہوتے ہیں کہ ہم کیا سوچ رہے ہیں؟.سوچنے والوں کی دنیا....اور دنیا والوں کی سوچ ہمیشہ مختلف ہوتی ہے. از:۔ منیب اختر رضآ